پیٹ میں کبھی کبھار گیس بننا معمول کی بات ہے، لیکن اگر گیس، ڈکار یا اپھارہ روزانہ کی زندگی میں خلل ڈالنے لگے تو اس کی وجہ پر توجہ دینا ضروری ہے۔
عام وجوہات
کھانا جلدی جلدی کھانا، کھاتے ہوئے زیادہ ہوا نگلنا، کولڈ ڈرنکس، بہت زیادہ چکنائی، قبض اور بعض غذاؤں کا استعمال گیس بڑھا سکتا ہے۔
کچھ افراد میں دودھ یا مخصوص غذاؤں کو ہضم کرنے میں دشواری بھی اپھارے کا سبب بنتی ہے۔
کیا احتیاط کریں؟
کھانا آہستہ کھائیں اور اچھی طرح چبائیں۔
ایک وقت میں بہت زیادہ کھانے کے بجائے مقدار مناسب رکھیں۔
کولڈ ڈرنکس اور ایسی غذاؤں کو کم کریں جن سے بار بار گیس بنتی ہو۔
قبض ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں۔
روزانہ مناسب چہل قدمی کریں۔
اگر کسی خاص غذا کے بعد بار بار مسئلہ ہو تو اسے نوٹ کریں۔
ہومیوپیتھک علاج
ہومیوپیتھی میں گیس کے لیے دوا کا انتخاب صرف گیس کی موجودگی پر نہیں کیا جاتا۔
Lycopodium
تھوڑی سی غذا کے بعد بھی پیٹ بہت پھول جائے، خاص طور پر پیٹ کے نچلے حصے میں اپھارہ اور گیس نمایاں ہو۔
Carbo vegetabilis
پیٹ میں بہت زیادہ گیس، ڈکار سے عارضی آرام اور پیٹ میں بھاری پن نمایاں ہو۔
Nux vomica
بدہضمی، گیس اور قبض کے ساتھ بار بار رفع حاجت کی نامکمل خواہش ہو، خصوصاً بے قاعدہ غذا یا زیادہ کھانے کے بعد۔
China officinalis
گیس کی وجہ سے پیٹ بہت زیادہ پھول جائے اور گیس خارج ہونے سے عارضی آرام محسوس ہو۔
دوا کا انتخاب مریض کی مکمل علامات کے مطابق ہونا چاہیے۔
حجامہ
پیٹ کی گیس کے لیے حجامہ کو ہر مریض کا معمول کا علاج قرار دینا مناسب نہیں۔ اگر گیس کے ساتھ قبض، کمر یا عضلاتی تناؤ جیسی ایسی کیفیت موجود ہو جس میں حجامہ کی الگ indication بنتی ہو تو اسے معاون علاج کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
کب معائنہ ضروری ہے؟
اگر گیس کے ساتھ مسلسل پیٹ درد، خون آنا، بار بار قے، غیر ارادی وزن میں کمی، مسلسل اسہال یا قبض، یا رات کو نیند سے جگانے والی علامات ہوں تو صرف گھریلو علاج پر انحصار نہ کریں۔
بار بار گیس کی شکایت میں اصل سوال یہ ہے کہ گیس کیوں بن رہی ہے؟

