منہ میں کبھی کبھار چھالا نکلنا عام بات ہے اور عموماً ایک سے دو ہفتوں میں ٹھیک ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر ایک چھالا ختم ہوتے ہی دوسرا نکل آئے، بار بار ایک ہی مسئلہ ہو یا کھانے پینے اور بولنے میں تکلیف ہونے لگے تو اس کی وجہ تلاش کرنا ضروری ہے۔
بار بار چھالوں کی ممکنہ وجوہات
- دانت لگنے، سخت برش یا منہ کے اندر معمولی چوٹ
- ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی
- آئرن کی کمی
- وٹامن بی 12 کی کمی
- فولیٹ کی کمی
- بعض غذاؤں سے حساسیت
- بعض ادویات
- معدے اور آنتوں کی بعض بیماریاں
- مدافعتی نظام سے متعلق بعض بیماریاں
اگر چھالوں کے ساتھ مسلسل اسہال، پیٹ کی شکایات، خون کی کمی یا وزن میں کمی بھی ہو تو غذائی اجزاء کے جذب میں خرابی یا آنتوں کی بیماریوں کو بھی دیکھنا چاہیے۔
گھر میں کیا احتیاط کریں؟
بہت گرم، تیز مرچ مصالحے والی، کھٹی یا ایسی چیزیں وقتی طور پر کم کریں جن سے زخم میں جلن بڑھتی ہو۔
نرم دانتوں کا برش استعمال کریں، منہ کی صفائی برقرار رکھیں اور چھالے کو زبان یا دانت سے بار بار نہ چھیڑیں۔
اگر کسی خاص غذا کے بعد بار بار چھالے نکلتے ہوں تو اس تعلق کو نوٹ کرنا بھی مفید ہے۔
کن ٹیسٹوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے؟
اگر چھالے بار بار ہوں تو مریض کی علامات اور طبی تاریخ کے مطابق مندرجہ ذیل ٹیسٹ مفید ہوسکتے ہیں:
CBC
Serum Ferritin
Vitamin B12
Folate
اگر ساتھ معدے اور آنتوں کی مستقل علامات بھی موجود ہوں تو مزید تحقیقات کا انتخاب ان علامات کے مطابق کیا جاسکتا ہے۔
ہومیوپیتھک علاج
ہومیوپیتھک دوا کا انتخاب چھالے کی نوعیت اور مریض کی دوسری علامات کو ملا کر کیا جاتا ہے۔ چند اہم ادویات میں:
Borax
منہ کے چھالے بہت حساس اور تکلیف دہ ہوں۔ منہ کی اندرونی جھلی گرم اور حساس محسوس ہو اور کھانے یا چھونے سے تکلیف نمایاں ہو۔
Mercurius solubilis
چھالوں کے ساتھ منہ سے بدبو، زیادہ لعاب، زبان پر تہہ اور مسوڑھوں کی سوجن یا خون آنے کا رجحان نمایاں ہو۔
Nitric acid
درد بہت تیز، چبھنے یا کانٹا لگنے جیسا ہو۔ چھالے گہرے ہوں یا معمولی چھونے سے خون آنے کا رجحان ہو۔
Natrum muriaticum
بار بار چھالے بننے کے ساتھ منہ یا ہونٹ خشک ہوں، ہونٹ پھٹتے ہوں اور مریض کی عمومی علامات بھی دوا سے مطابقت رکھتی ہوں۔
Sulphur
بار بار لوٹنے والے چھالوں میں جلن اور گرمی نمایاں ہو اور مریض کی دوسری عمومی علامات بھی سلفر کی طرف رہنمائی کرتی ہوں۔
Kali chloricum
منہ کے اندر وسیع سطح پر چھالے یا زخم ہوں، مخاطی جھلی سرخ اور تکلیف دہ ہو اور بار بار ہونے والی منہ کی سوزش نمایاں ہو۔
صرف چھالے دیکھ کر دوا منتخب کرنے کے بجائے درد کی نوعیت، جگہ، منہ کی کیفیت، ساتھ موجود علامات اور بار بار ہونے کے انداز کو دوا کے انتخاب میں اہمیت دینی چاہیے۔
غذائی کمی بھی ساتھ درست کریں
اگر تحقیقات میں آئرن، وٹامن بی 12 یا فولیٹ کی کمی ثابت ہوجائے تو صرف چھالوں کا علامتی علاج کافی نہیں۔ متعلقہ کمی کی وجہ تلاش کرنا اور اسے مناسب طریقے سے پورا کرنا بھی علاج کا حصہ ہے۔
کب زیادہ توجہ ضروری ہے؟
اگر کوئی چھالا دو سے تین ہفتوں تک ٹھیک نہ ہو، غیر معمولی طور پر بڑا ہو، مسلسل خون آئے، بار بار بہت زیادہ تعداد میں نکلے، یا ساتھ وزن میں کمی، بخار، مسلسل اسہال یا جسم کے دوسرے حصوں میں زخم بھی ہوں تو باقاعدہ طبی معائنہ ضروری ہے۔
بار بار چھالے نکلنے میں مقصد صرف موجودہ چھالا ختم کرنا نہیں، بلکہ یہ جاننا بھی ہے کہ وہ بار بار کیوں بن رہا ہے۔

