بار بار پیشاب آنا

وجوہات، علامات، تشخیص اور علاج

بار بار پیشاب آنے اور رات کو نیند سے اٹھ کر پیشاب کرنے کی شکایت ہر عمر میں ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کی وجہ معلوم کرنے کے لیے صرف حاجت کی تعداد کافی نہیں؛ پیشاب کی مقدار، حاجت کی نوعیت، عمر، ادویات اور ساتھ موجود علامات کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ بار بار پیشاب آنا، پیشاب کی مقدار زیادہ ہونا اور مثانے پر قابو نہ رہنا تین مختلف مسائل ہیں، اگرچہ بعض مریضوں میں یہ ایک ساتھ بھی ہو سکتے ہیں۔

1۔ بار بار پیشاب آنے کی اہم وجوہات

الف۔ غدۂ قدامیہ کا بڑھنا (Benign Prostatic Hyperplasia — BPH)

مردوں میں، خصوصاً 50 سال سے زیادہ عمر میں، پروسٹیٹ کا غیر سرطانی طور پر بڑھنا بار بار پیشاب آنے کی عام وجوہات میں شامل ہے۔ پروسٹیٹ پیشاب کی نالی کے گرد واقع ہوتا ہے؛ اس کے بڑھنے سے پیشاب کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

عام علامات:

  • رات کو بار بار پیشاب کے لیے اٹھنا۔
  • پیشاب شروع کرنے میں دشواری یا زور لگانا۔
  • پیشاب کی دھار کمزور یا وقفے وقفے سے آنا۔
  • پیشاب کے بعد بھی مثانہ مکمل خالی نہ ہونے کا احساس۔
  • پیشاب ختم ہونے کے بعد قطرے آنا۔

پروسٹیٹ کے حجم اور علامات کی شدت میں ہمیشہ براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔ ان علامات کی دوسری وجوہات بھی ممکن ہیں، اس لیے طبی معائنہ ضروری ہے۔

ب۔ مثانے کی زیادتی سے سرگرمی (Overactive Bladder — OAB)

اس کیفیت میں مثانے کے پٹھے ضرورت سے پہلے یا غیر ارادی طور پر سکڑ سکتے ہیں۔ مریض کو اچانک شدید پیشاب کی حاجت محسوس ہوتی ہے، جسے کچھ دیر روکنا مشکل ہو سکتا ہے۔

نمایاں علامات:

  • اچانک اور شدید حاجت۔
  • دن میں بار بار پیشاب کرنا۔
  • رات کو بار بار اٹھنا۔
  • بعض مریضوں میں بیت الخلا پہنچنے سے پہلے پیشاب نکل جانا۔

یہ کیفیت پروسٹیٹ کے بڑھنے، انفیکشن یا دوسری بیماریوں سے مختلف ہو سکتی ہے، لیکن بعض اوقات علامات ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ اس کی تشخیص سے پہلے انفیکشن اور دیگر ممکنہ وجوہات کو خارج کرنا ضروری ہے۔

ج۔ ذیابیطس (Diabetes Mellitus)

خون میں گلوکوز کی مقدار بہت بڑھنے پر گردے اضافی گلوکوز کو پیشاب کے ذریعے خارج کرتے ہیں، جس کے ساتھ پانی بھی زیادہ خارج ہو سکتا ہے۔ نتیجتاً پیشاب کی مجموعی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

ساتھ موجود ممکنہ علامات:

  • غیر معمولی پیاس۔
  • پیشاب کی مقدار میں اضافہ۔
  • تھکاوٹ۔
  • غیر ارادی وزن میں کمی۔
  • دھندلا دکھائی دینا۔

ذیابیطس میں عموماً صرف بار بار تھوڑی مقدار میں پیشاب آنے کے بجائے مجموعی مقدار بھی بڑھ سکتی ہے، اگرچہ ہر مریض میں علامات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔

د۔ کیفین اور دیگر مشروبات

چائے، کافی، کولا اور انرجی ڈرنکس میں موجود کیفین بعض افراد میں پیشاب کی مقدار بڑھا سکتی ہے اور مثانے کی حاجت یا بے قراری کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ الکحل بھی بعض افراد میں یہ مسئلہ بڑھا سکتی ہے۔

اگر علامات کیفین کے استعمال کے بعد بڑھتی ہوں تو اس کی مقدار بتدریج کم کر کے فرق دیکھا جا سکتا ہے۔

ہ۔ رات کو زیادہ پانی یا مشروبات کا استعمال

سونے سے پہلے زیادہ پانی، چائے یا دیگر مشروبات پینے سے رات میں پیشاب کی حاجت بڑھ سکتی ہے۔ تاہم رات کو بار بار اٹھنے کی وجہ صرف پانی پینا نہیں؛ پروسٹیٹ، ذیابیطس، دل یا گردوں کے مسائل، ٹانگوں میں سوجن، بعض ادویات اور نیند کے دوران سانس رکنے کی کیفیت بھی اس میں کردار ادا کر سکتی ہے۔

رات کے قریب ضرورت سے زیادہ مشروبات پینے سے گریز کیا جا سکتا ہے، لیکن دن بھر پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنا ضروری ہے۔

و۔ پیشاب کی نالی کا انفیکشن (Urinary Tract Infection — UTI)

انفیکشن کی صورت میں بار بار اور فوری پیشاب کی حاجت کے ساتھ جلن یا درد بھی ہو سکتا ہے۔ بعض مریضوں میں پیشاب دھندلا، خون آلود یا بدبودار ہو سکتا ہے۔

بخار، کپکپی یا کمر کے پہلو میں درد گردوں تک انفیکشن پہنچنے کی علامت ہو سکتے ہیں اور فوری طبی معائنے کا تقاضا کرتے ہیں۔

ز۔ دیگر اہم وجوہات

بار بار پیشاب آنے کے دیگر اسباب میں شامل ہیں:

  • پیشاب آور ادویات (Diuretics)۔
  • بعض ادویات جو مثانے یا پیشاب کے اخراج پر اثر ڈالتی ہیں۔
  • گردوں یا دل کی بعض بیماریاں۔
  • دائمی پیشابی رکاوٹ یا مثانے میں پیشاب باقی رہ جانا۔
  • قبض، بعض اعصابی بیماریاں اور نیند کے مسائل۔

2۔ تشخیص کے لیے کون سی معلومات ضروری ہیں؟

معالج کو یہ جاننا چاہیے کہ مسئلہ کب سے ہے، دن میں کتنی بار پیشاب آتا ہے، رات کو کتنی بار اٹھنا پڑتا ہے، ہر مرتبہ پیشاب کی مقدار کتنی ہوتی ہے اور کیا جلن، کمزور دھار، شدید حاجت، پیاس یا پیشاب پر قابو نہ رہنے کی شکایت بھی ہے۔

علامات کے مطابق درج ذیل ٹیسٹ زیرِ غور آ سکتے ہیں:

Blood Glucose / HbA1c — ذیابیطس کی جانچ کے لیے۔

Urinalysis — پیشاب میں خون، گلوکوز اور انفیکشن کے ممکنہ شواہد دیکھنے کے لیے۔

Urine Culture — جب بیکٹیریا کے انفیکشن کا شبہ ہو۔

مردوں میں پروسٹیٹ کی علامات کے لیے معائنہ، پیشاب کے بعد مثانے میں باقی رہ جانے والی مقدار کی پیمائش (Post-Void Residual)، یا دیگر ٹیسٹ درکار ہو سکتے ہیں۔ PSA ٹیسٹ ہر مریض کے لیے خودکار طور پر ضروری نہیں؛ اس کا فیصلہ عمر، علامات اور طبی مشورے کے مطابق کیا جاتا ہے۔

3۔ ابتدائی احتیاط اور علاج

  • کیفین کی مقدار کم کر کے علامات میں تبدیلی دیکھیں۔
  • سونے سے پہلے بہت زیادہ مشروبات پینے سے گریز کریں، مگر دن بھر مناسب پانی پئیں۔
  • چند دن پیشاب، مشروبات اور رات کو اٹھنے کے اوقات کا ریکارڈ رکھیں۔
  • ذیابیطس، انفیکشن یا پروسٹیٹ کی بیماری کا شبہ ہو تو اصل وجہ کی تشخیص کروائیں۔
  • OAB میں مثانے کی تربیت اور بعض مخصوص ورزشیں یا ادویات مفید ہو سکتی ہیں؛ علاج مریض کی کیفیت کے مطابق منتخب کیا جاتا ہے۔
  • پروسٹیٹ کے بڑھنے اور پیشاب کی رکاوٹ کا علاج علامات اور معائنے کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔

صرف علامات کی بنیاد پر خود سے اینٹی بایوٹک، پروسٹیٹ کی دوا یا مثانے کی دوا شروع نہ کریں۔

4۔ کن علامات میں فوری طبی مدد ضروری ہے؟

پیشاب بالکل بند ہو جانا، پیشاب میں واضح خون، شدید پیٹ یا پہلو کا درد، یا بخار اور کپکپی کے ساتھ پیشاب کی علامات فوری طبی توجہ کی متقاضی ہیں۔

نتیجہ: بار بار پیشاب آنا بذاتِ خود کوئی ایک بیماری نہیں بلکہ مختلف کیفیتوں کی علامت ہے۔ درست تشخیص کے لیے پیشاب کی مقدار، حاجت کی نوعیت، مریض کی عمر اور دوسری علامات کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔

SM Health Care
ہومیوپیتھی، حجامہ، نفسیاتی کلینک/مشاورت
Shop No. 2, 76-C, 10th Commercial Street, DHA Phase IV, Karachi
03122353595 | 02135347700 | 02137233678
rehan@homeohijama.com